اندوں والی مرغیوں (لیئر مرغیوں) کا مکمل کورس
(اردو رسم الخط میں تفصیلی گائیڈ – موزوں موسم کے مطابق، تصاویر کے ساتھ)

انڈے دینے والی مرغیوں کی کمرشل فارمنگ: مکمل گائیڈ کورس
تعارف
اندوں والی مرغیاں پالنا ایک منافع بخش اور فائدہ مند کاروبار یا گھریلو سرگرمی ہے۔ یہ کورس آپ کو تفصیل سے بتائے گا کہ صحت مند مرغیاں کیسے پالیں، انڈوں کی پیداوار کیسے بڑھائیں، اور مختلف موسموں (گرمی اور سردی) میں ان کا خیال کیسے رکھیں۔ یہ گائیڈ اس موسم کے مطابق تیار کیا گیا ہے جہاں گرمیاں شدید اور سردیاں ٹھنڈی ہوتی ہیں، لیکن بغیر کسی مخصوص جگہ کا ذکر کیے۔

حصہ 1: مناسب نسلوں کا انتخاب
انڈوں کی اچھی پیداوار کے لیے ہائبرڈ یا مخصوص لیئر نسلیں بہتر ہیں۔ موزوں نسلیں جو گرمی اور سردی دونوں برداشت کر سکیں:
- وائٹ لیئر (جیسے ISA White، Lohmann White): زیادہ انڈے (سالانہ 280-320)، سفید انڈے، گرمی برداشت کرنے والی۔
- براؤن لیئر (ISA Brown، Lohmann Brown، RIR - Rhode Island Red): 250-300 انڈے، بھورے انڈے، متوازن موسم کے لیے اچھی۔
- Australorp یا Sussex: دونوں موسموں میں اچھی کارکردگی، مضبوط اور پرسکون۔
مشورہ: شروع میں 16-18 ہفتوں کی پولیٹ (نوجوان مرغیاں) خریدیں تاکہ جلد انڈے ملنے لگیں۔ دن کے چوزوں سے شروع کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

حصہ 2: رہائش اور ماحول (موسم کے مطابق)
مرغیوں کے لیے مناسب شیڈ ضروری ہے۔
- جگہ: فی مرغی 1.5 سے 2 مربع فٹ فرش جگہ (کیج سسٹم میں کم)۔ آزاد گھومنے کے لیے زیادہ جگہ بہتر۔
- وینٹیلیشن: ہوا کا اچھا بہاؤ۔ گرمی میں فینز، کولنگ پیڈز یا مرطوب کرنے والے سسٹم استعمال کریں۔ سردی میں ہوا بند رکھیں لیکن تازہ ہوا آتی رہے تاکہ نمی اور امونیا نہ بڑھے۔
- درجہ حرارت: مثالی 18-24°C۔ گرمی (30°C سے اوپر) میں پانی ٹھنڈا رکھیں، کھانا کم کریں، اور ہوا بڑھائیں۔ سردی میں بیڈنگ (بھوسہ) موٹی کریں۔
- روشنی: 14-16 گھنٹے روزانہ روشنی انڈوں کی پیداوار بڑھاتی ہے۔
- گھونسلے: ہر 4-5 مرغیوں کے لیے ایک گھونسلا۔

حصہ 3: خوراک اور غذائیت
اچھی خوراک انڈوں کی پیداوار کا راز ہے۔
- لیئر فیڈ: 16-18% پروٹین، کیلشیم (شیل کے لیے)۔ کمرشل لیئر مش (پیلیٹس) استعمال کریں۔
- روزانہ مقدار: ایک مرغی کو 110-120 گرام فیڈ + صاف پانی۔
- اضافی: سبزیاں، سبز چارہ، کیڑے، گندم، مکئی۔ گرمی میں زیادہ پانی اور وٹامنز، سردی میں انرجی والا فیڈ۔
- نکات: کھانا صبح اور شام دیں۔ صاف پانی ہمیشہ دستیاب رکھیں۔

حصہ 4: صحت اور بیماریوں کا انتظام
- عام بیماریاں: نیوکاسل، ایویئن فلون، کوکسیدیوسس، کیڑے۔
- روک تھام: ویکسینیشن شیڈول پر عمل (دن 1 سے شروع)۔ شیڈ صاف رکھیں، biosecurity (باہر سے آنے والوں پر پابندی)۔
- علامات: بھوک نہ لگنا، اسہال، سانس کی تکلیف۔ فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
- موسمی احتیاط: گرمی میں ہیٹ سٹریس، سردی میں سانس کی بیماریاں۔
Image limit reached
You’ve used your image generations. Please try again later.
حصہ 5: انڈوں کی پیداوار اور دیکھ بھال
- شروعات: 18-20 ہفتوں میں انڈے شروع۔ عروج 25-30 ہفتوں پر۔
- جمع کرنا: روزانہ 2-3 بار، صاف جگہ پر رکھیں۔
- اسٹوریج: ٹھنڈی جگہ، 7-10 دن تک محفوظ۔
حصہ 6: مرغیاں کہاں سے حاصل کریں (تفصیلی)
اچھی نسل اور صحت مند مرغیاں خریدیں تاکہ نقصان نہ ہو۔
- ڈے اولڈ چوزے: بریڈر فارمز یا ہچریز سے۔ پاکستان میں Awaz Poultry، HB Chicks (ISA White کے لیے)، Lohmann distributors، Red Farms (RIR) وغیرہ معتبر ہیں۔ مقامی مارکیٹس یا OLX پر چیک کریں لیکن تصدیق شدہ جگہ سے لیں۔
- پولیٹس (16-18 ہفتہ): براہ راست فارمز سے، جیسے Multan Farms، مختلف شہروں کے پولٹری فرمز۔ قیمت تقریباً 600-1200 روپے فی پرندہ (عمر اور نسل کے مطابق)۔
- مشورے:
- فارم وزٹ کریں، ویکسینیشن ریکارڈ چیک کریں۔
- بڑی کمپنیوں (Lohmann، ISA) کی فرانچائز یا ڈسٹری بیوٹرز سے رابطہ کریں۔
- ابتدائی طور پر 50-100 مرغیاں سے شروع کریں۔
- مقامی ڈیلرز یا حکومت کے livestock محکمے سے رابطہ کریں۔
Image limit reached
You’ve used your image generations. Please try again later.
حصہ 7: منافع اور نکات
- ایک مرغی سالانہ 250-300 انڈے دے سکتی ہے۔
- لاگت: فیڈ، ویکسین، رہائش۔ آمدنی: انڈے بیچ کر یا گھر استعمال۔
- مسائل حل: باقاعدگی، نگرانی، ریکارڈ رکھیں۔
اختتام: یہ کورس عملی طور پر लागو کریں۔ شروع میں چھوٹے پیمانے پر کریں اور تجربہ حاصل کریں۔ کامیابی کے لیے صبر اور درست انتظام ضروری ہے۔
اندوں والی مرغیوں (لیئر مرغیوں) کا مکمل کورس
(اردو رسم الخط میں تفصیلی گائیڈ – موزوں موسم کے مطابق، تصاویر کے ساتھ)
تعارف
انڈوں والی مرغیاں پالنا ایک انتہائی منافع بخش اور فائدہ مند کاروبار یا گھریلو سرگرمی ہے۔ یہ کورس آپ کو تفصیل سے بتائے گا کہ صحت مند مرغیاں کیسے پالیں، انڈوں کی پیداوار کیسے بڑھائیں، اور مختلف موسموں (شدید گرمی اور سردی) میں ان کا خیال کیسے رکھیں۔ یہ گائیڈ خاص طور پر ایسے ماحول کے مطابق تیار کی گئی ہے جہاں گرمیاں شدید اور سردیاں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
[تصویر 1: صحت مند لیئر مرغیاں جو شیڈ میں انڈے دینے کے لیے بالکل تیار کھڑی ہیں]
حصہ 1: مناسب نسلوں کا انتخاب
انڈوں کی اچھی اور مسلسل پیداوار کے لیے ہائبرڈ یا مخصوص لیئر نسلوں کا انتخاب ہی سب سے بہترین رہتا ہے۔ ایسی نسلیں جو گرمی اور سردی دونوں برداشت کر سکیں، درج ذیل ہیں:
وائٹ لیئر (جیسے ISA White، Lohmann White): یہ مرغیاں زیادہ انڈے (سالانہ 280-320) دیتی ہیں۔ ان کے انڈے سفید ہوتے ہیں اور یہ گرمی کا موسم اچھی طرح برداشت کر لیتی ہیں۔
براؤن لیئر (ISA Brown، Lohmann Brown، RIR - Rhode Island Red): یہ سالانہ 250-300 بھورے انڈے دیتی ہیں اور متوازن و تبدیل ہوتے موسم کے لیے بہت اچھی ہیں۔
Australorp یا Sussex: یہ دونوں موسموں میں بہترین کارکردگی دکھاتی ہیں، جسمانی طور پر مضبوط اور پرسکون مزاج کی ہوتی ہیں۔
اہم مشورہ: نئے کام شروع کرنے والوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ 16-18 ہفتوں کی پولیٹ (نوجوان مرغیاں) خریدیں تاکہ فارم پر آتے ہی جلد انڈے ملنے لگیں۔ ایک دن کے چوزوں سے کام شروع کرنا اور ان کو پالنا ابتدائی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔
[تصویر 2: مختلف لیئر مرغیوں کی نسلیں (سفید اور بھوری مرغیوں کا موازنہ)]
حصہ 2: رہائش اور ماحول (موسم کے مطابق)
مرغیوں کی بہتر پیداوار کے لیے ایک آرام دہ اور ہوا دار شیڈ کا ہونا لازمی ہے۔
جگہ کی ضرورت: فرش پر پالنے کی صورت میں فی مرغی 1.5 سے 2 مربع فٹ جگہ دیں۔ اگر آزاد گھومنے پھرنے (Free-range) کا انتظام ہو تو اور بھی بہتر ہے۔
وینٹیلیشن (ہوا کا گزر): شیڈ میں تازہ ہوا کا اچھا بہاؤ ہونا چاہیے۔ گرمی میں فینز، کولنگ پیڈز یا اسپرے سسٹم استعمال کریں۔ سردی میں ٹھنڈی ہوا کو روکنے کے لیے پردے لگائیں لیکن اوپر سے تازہ ہوا کا راستہ کھلا رکھیں تاکہ نمی اور امونیا گیس جمع نہ ہو۔
درجہ حرارت: مرغیوں کے لیے مثالی درجہ حرارت 18-24°C ہے۔ گرمی (30°C سے اوپر) میں پانی میں او آر ایس (ORS) دیں اور ہوا کا دباؤ بڑھائیں۔ سردی میں فرش پر بچھالی (بھوسہ یا لکڑی کا برادہ) موٹی کر دیں۔
روشنی کا انتظام: انڈے دینے والی مرغیوں کو روزانہ 14-16 گھنٹے روشنی (قدرتی + مصنوعی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ روشنی کا یہ دورانیہ انڈوں کی پیداوار کو برقرار رکھتا ہے۔
گھونسلے (Nesting Boxes): شیڈ کے اندر اندھیرے والے کونوں میں ہر 4 سے 5 مرغیوں کے لیے ایک نیسٹنگ باکس رکھیں تاکہ وہ سکون سے انڈے دے سکیں۔
[تصویر 3: ایک جدید اور ہوا دار مرغی خانہ (شیڈ) جس میں روشنی اور گھونسلوں کا بہترین انتظام ہے]
حصہ 3: خوراک اور غذائیت
اچھی اور متوازن خوراک ہی انڈوں کی زیادہ پیداوار کا اصل راز ہے۔
لیئر فیڈ: مرغیوں کو ایسی کمرشل فیڈ دیں جس میں 16-18% پروٹین اور وافر مقدار میں کیلشیم موجود ہو (جو انڈے کا چھلکا مضبوط بناتا ہے)۔
روزانہ کی مقدار: ایک بالغ لیئر مرغی روزانہ تقریباً 110-120 گرام فیڈ کھاتی ہے۔
اضافی غذائیت: کمرشل فیڈ کے ساتھ ساتھ انہیں کبھی کبھار سبزیاں، سبز چارہ، گندم یا مکئی کے ٹکڑے بھی دیے جا سکتے ہیں۔
موسمی تبدیلی: گرمی کے موسم میں فیڈ کی مقدار تھوڑی کم کر کے پانی میں وٹامن سی (Vitamin C) شامل کریں۔ سردی میں ان کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ انرجی والی فیڈ یا مکئی کا استعمال بڑھائیں۔
[تصویر 4: مرغیوں کے سامنے صاف برتنوں میں خوراک اور تازہ پانی رکھنے کا منظر]
حصہ 4: صحت اور بیماریوں کا انتظام
بیماریوں سے بچاؤ کے لیے صفائی اور بروقت حفاظتی اقدامات سب سے اہم ہیں۔
عام بیماریاں: نیوکاسل (رانی کھیت)، ایویئن انفلوئنزا (برڈ فلو)، کوکسیدیوسس (خونی پیچش) اور پیٹ کے کیڑے۔
روک تھام (Biosecurity): اپنے شیڈ کو ہمیشہ صاف اور جراثیم سے پاک رکھیں۔ باہر کے غیر متعلقہ لوگوں کا فارم میں داخلہ بند رکھیں۔
ویکسینیشن: پہلے دن سے لے کر انڈے دینے کی عمر تک کے تمام ویکسین شیڈول پر سختی سے عمل کریں۔
بیماری کی علامات: اگر مرغیاں سست ہو جائیں، بھوک کم کر دیں، پتلی بیٹھیں کریں یا سانس لینے میں تکلیف ہو، تو انہیں فوراً دوسرے پرندوں سے الگ کریں اور پولٹری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
[تصویر 5: ماہر یا فارمر مرغی کے پروں اور صحت کا معائنہ کر رہا ہے]
حصہ 5: انڈوں کی پیداوار اور دیکھ بھال
پیداوار کا آغاز: لیئر مرغیاں عام طور پر 18 سے 20 ہفتوں کی عمر میں پہلا انڈا دیتی ہیں۔ ان کی پیداوار کا عروج (Peak Production) 25 سے 30 ہفتوں کی عمر میں ہوتا ہے۔
انڈے جمع کرنا: شیڈ سے انڈے روزانہ 2 سے 3 بار جمع کریں تاکہ وہ گندے یا ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔
اسٹوریج: انڈوں کو ہمیشہ کسی ٹھنڈی اور صاف جگہ پر رکھیں جہاں درجہ حرارت مستحکم ہو۔ گھر یا فارم پر انہیں 7 سے 10 دن تک آسانی سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
[تصویر 6: تازہ چنے ہوئے صاف ستھرے انڈے جو کریٹس (Trays) میں ترتیب سے رکھے گئے ہیں]
حصہ 6: مرغیاں کہاں سے حاصل کریں؟ (تفصیلی گائیڈ)
نقصان سے بچنے کے لیے ہمیشہ تصدیق شدہ اور صحت مند پرندے ہی خریدیں۔
ایک دن کا چوزہ (Day Old Chicks - DOC): اگر آپ چوزوں سے شروع کرنا چاہتے ہیں تو نامور ہیچریز یا بریڈر فارمز جیسے کہ Awaz Poultry، HB Chicks، Lohmann Distributors، یا Red Farms سے رابطہ کریں۔ مقامی مارکیٹ یا آن لائن پلیٹ فارمز (جیسے OLX) سے خریدتے وقت ہسٹری ضرور چیک کریں۔
تیار پولیٹس (16-18 ہفتے کی مرغیاں): یہ آپ کو مختلف کمرشل پولٹری فارمز (جیسے ملتان فارمز یا اپنے قریبی شہر کے بڑے لیئر فارمز) سے مل سکتی ہیں۔ مارکیٹ میں ان کی قیمت عمر اور نسل کے لحاظ سے تقریباً 600 سے 1200 روپے فی پرندہ تک ہو سکتی ہے۔
💡 خریداری کے لیے اہم نکات:
خریدنے سے پہلے فارم کا خود دورہ کریں اور ان کا ویکسینیشن کارڈ/ریکارڈ لازمی دیکھیں۔
ہمیشہ بڑی کمپنیوں کے آفیشل ڈسٹری بیوٹرز کو ترجیح دیں۔
اگر آپ بالکل نئے ہیں، تو پہلے تجربے کے لیے صرف 50 سے 100 مرغیوں سے کام کا آغاز کریں۔
رہنمائی کے لیے اپنے علاقے کے سرکاری لائیو اسٹاک (Livestock) کے محکمے سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔
[تصویر 7: پولیٹس (نوجوان مرغیاں) جو فارم پر منتقلی کے لیے تیار کی جا رہی ہیں]
حصہ 7: منافع اور کاروباری نکات
پیداواری صلاحیت: ایک اچھی نسل کی صحت مند مرغی سال میں 250 سے 300 تک انڈے باآسانی دے سکتی ہے۔
اخراجات اور آمدنی: آپ کا بنیادی خرچہ فیڈ، شیڈ کی تیاری اور ویکسین پر ہوگا۔ آمدنی روزانہ کی بنیاد پر انڈے مارکیٹ میں یا براہ راست صارفین کو بیچ کر حاصل ہوگی۔ دیسی یا براؤن انڈوں کی قیمت سفید کمرشل انڈوں سے زیادہ ملتی ہے۔
کامیابی کا فارمولا: روزانہ کی بنیاد پر مرغیوں کی نگرانی کریں، فیڈ اور انڈوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھیں، اور شیڈ کی صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔
اختتام
لیئر پولٹری فارمنگ ایک مستقل توجہ اور محنت مانگنے والا کام ہے۔ اس کورس میں بتائے گئے اصولوں کو عملی طور پر لاگو کریں۔ شروع میں چھوٹے پیمانے سے آغاز کریں تاکہ آپ کو موسم کے بدلاؤ اور مرغیوں کے مزاج کا تجربہ ہو جائے۔ درست انتظام اور صبر کے ساتھ یہ کاروبار آپ کو بہترین اور مستقل منافع دے سکتا ہے
حصہ 8: روشنی کا شیڈول اور اس کی اہمیت (Lighting Program)
لیئر مرغیوں کی زندگی میں روشنی کا کردار اندھیرے میں تیر چلانے جیسا نہیں ہے۔ روشنی مرغی کے دماغ میں موجود غدود (Pituitary Gland) کو متحرک کرتی ہے، جس سے وہ انڈے پیدا کرنے والے ہارمونز بناتی ہے۔
ابتدائی عمر (چوزے سے 16 ہفتے): اس دوران روشنی کا دورانیہ کم رکھا جاتا ہے (تقریباً 10 سے 12 گھنٹے) تاکہ مرغیاں وقت سے پہلے انڈے دینا شروع نہ کریں۔ اگر وہ جسمانی وزن پورا ہونے سے پہلے انڈے شروع کر دیں، تو انڈے کا سائز چھوٹا رہتا ہے اور مرغی جلدی ناکارہ ہو جاتی ہے۔
پیداواری عمر (18 ہفتے اور اس سے اوپر): جیسے ہی مرغیاں 18 ہفتے کی ہوں، روشنی کو آہستہ آہستہ بڑھا کر 15 سے 16 گھنٹے روزانہ پر لے جائیں۔
بلب کا انتخاب: شیڈ میں ایل ای ڈی (LED) بلب استعمال کریں جو زرد یا گرم سفید (Warm White) روشنی دیتے ہوں۔ روشنی پورے شیڈ میں یکساں ہونی چاہیے، کہیں اندھیرا اور کہیں زیادہ اجالا نہ ہو۔
[تصویر 8: شیڈ میں لگی یکساں روشنی اور ٹائمر سسٹم جو خودکار طریقے سے بلب آن/آف کرتا ہے]
حصہ 9: بچھالی (Bedding/Litter) کا انتظام اور صفائی
فرش پر پالی جانے والی مرغیوں کے لیے بچھالی کی کیفیت ان کی صحت کی ضامن ہوتی ہے۔
مواد کا انتخاب: خشک لکڑی کا برادہ (آری کا چھلکا) یا چاول کا بھوسہ بہترین بچھالی ہے۔ اس کی موٹائی گرمیوں میں 2 سے 3 انچ اور سردیوں میں 4 سے 5 انچ ہونی چاہیے۔
نمی کا کنٹرول: بچھالی کو کبھی بھی گیلا نہ ہونے دیں۔ اگر پانی کے برتن سے پانی گرے، تو وہ حصہ فوراً تبدیل کریں۔ گیلی بچھالی سے امونیا گیس پیدا ہوتی ہے جو مرغیوں کی آنکھیں خراب کرتی ہے اور سانس کی بیماریاں لاتی ہے۔
گوڈی کرنا (Raking): ہفتے میں دو بار کسی پنجے یا بیلچے کی مدد سے بچھالی کو اوپر نیچے کریں تاکہ اس میں ہوا کا گزر ہو اور وہ خشک رہے۔
[تصویر 9: فارمر شیڈ کے فرش پر خشک برادے کی گوڈی (Raking) کر رہا ہے]
حصہ 10: انڈوں کی کوالٹی اور پیداوار میں کمی کی وجوہات
بعض اوقات فارمرز شکایت کرتے ہیں کہ مرغیاں اچانک انڈے کم کر دیتی ہیں یا انڈے کا چھلکا کمزور ہوتا ہے۔ اس کی درج ذیل وجوہات اور حل ہیں:
| مسئلہ | ممکنہ وجہ | فوری حل |
| چھلکے کا نرم یا کمزور ہونا | کیلشیم یا وٹامن D3 کی کمی | فیڈ میں سنگِ مرمر کا چپس (Marble Grit) یا سیپ کا پاؤڈر شامل کریں۔ |
| انڈوں کی تعداد میں اچانک کمی | ہیٹ اسٹریس (شدید گرمی) یا ڈر/خوف | پانی میں الیکٹرولائٹس دیں اور شیڈ کے ارد گرد شور یا کتوں/بلیوں کا آنا روکیں۔ |
| مرغیوں کا انڈے کھانا | نیسٹنگ باکس میں اندھیرا نہ ہونا یا پروٹین کی کمی | گھونسلوں میں اندھیرا کریں، انڈے جلدی اٹھائیں اور فیڈ تبدیل کریں۔ |
| انڈے کا سائز چھوٹا ہونا | مرغی کی کم عمر یا کمزور جسمانی وزن | 18 ہفتے کی عمر تک مرغی کا وزن نسل کی گائیڈ کے مطابق پورا کریں۔ |
[تصویر 10: کیلشیم کی کمی کی وجہ سے نرم چھلکے والے انڈے اور صحت مند انڈے کا موازنہ]
حصہ 11: بائیو سیکیورٹی (Biosecurity) اور فارم کی حفاظت
بائیو سیکیورٹی کا مطلب ہے جراثیم کو فارم سے دور رکھنا۔ یہ مہنگی ادویات سے ہزار گنا بہتر ہے۔
فٹ بات (Foot Bath): شیڈ کے دروازے پر ایک چھوٹا برتن یا گڑھا رکھیں جس میں جراثیم کش دوا (جیسے پنکی یا کلورین) ملا پانی ہو۔ شیڈ میں داخل ہونے والا ہر شخص پہلے اپنے جوتے اس میں ڈبوئے۔
لباس کی تبدیلی: فارم کے لیے الگ جوتے اور کپڑے رکھیں جو باہر استعمال نہ ہوں۔
پرندوں اور چوہوں کا کنٹرول: شیڈ کی جالی باریک ہونی چاہیے تاکہ جنگلی چڑیاں یا چوہے اندر نہ آسکیں، کیونکہ یہ سب سے زیادہ بیماریاں پھیلاتے ہیں۔
[تصویر 11: شیڈ کے دروازے پر جراثیم کش پانی کا تالاب (Foot Bath) اور فارم کے مخصوص بوٹ]
حصہ 12: روزانہ کا ریکارڈ اور کھاتا بک (Record Keeping)
ایک کامیاب فارمر وہ ہے جسے اپنے اخراجات اور منافع کا زبانی نہیں بلکہ تحریری علم ہو۔ آپ کے پاس ایک ڈائری یا موبائل ایپ ہونی چاہیے جس میں روزانہ درج ذیل چیزیں لکھی جائیں:
روزانہ کی اموات (Mortality): کتنی مرغیاں مریں؟ (یہ شرح 1% ماہانہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے)۔
فیڈ کا استعمال: آج کتنے بیگز یا کلو فیڈ کھائی گئی؟
انڈوں کی گنتی: روزانہ کتنے انڈے حاصل ہوئے؟ (اس سے فارم کی پیداواری شرح یا % Production معلوم ہوتی ہے)۔
اخراجات اور فروخت: ادویات، فیڈ کی خریداری اور انڈوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم۔
[تصویر 12: ایک فارم رجسٹر یا موبائل اسکرین جہاں روزانہ کا پیداواری گراف دکھایا گیا ہے]
غریب اور کم لاگت فارمنگ کا خاص نسخہ (گھریلو پیمانے کے لیے)
اگر آپ کمرشل فیڈ کا خرچہ کم کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے مرغیاں گھر کی چھت یا صحن میں رکھی ہیں:
ہفتے میں دو بار ہوٹلوں کی بچی ہوئی روٹیاں (پانی میں بھگو کر) اور سبزیوں کے چھلکے دیں۔
انہیں زمین پر چرنے دیں جہاں سے وہ کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی پروٹین کی کمی پوری کریں۔
یاد رکھیں، اس طریقے سے انڈوں کی تعداد کمرشل فارم جتنی (300) نہیں ہوگی، لیکن انڈے کی لاگت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور منافع خالص دیسی انڈے کی صورت میں زیادہ ہوگا۔
0 Comments